3499 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ ابْنِ حُنَيْنٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ، فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لِنَفْسِي، لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ: لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ، حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ، السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ.
سیدنا ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بازار میں تیل خریدا ۔ جب میں نے اسے وصول کر لیا تو مجھے ایک آدمی ملا اور اس نے مجھے عمدہ منافع کی پیشکش کی ۔ میں نے چاہا کہ ( اسے قبول کرتے ہوئے ) اس کے ہاتھ پر ہاتھ ماروں ۔ تو ایک شخص نے میرے پیچھے سے میرا بازو پکڑ لیا ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ سیدنا زید بن ثابت ؓ تھے ۔ انہوں نے کہا: جہاں تم نے اسے خریدا ہے اسی جگہ مت بیچو حتیٰ کہ اپنی منزل پر لے جاؤ ۔ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے خریدنے کی جگہ ہی پر اس مال کو بیچنے سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ تاجر اسے اپنی اپنی منزل پر لے جائیں ۔
فائدہ۔صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین منڈی اور بازار میں بھی فرامین رسولﷺ پر سختی سے عمل کرتے اور کراتے تھے۔