3507 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: إِنْ وَجَدَ دَاءً فِي الثَّلَاثِ لَيَالِي رُدَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ، وَإِنْ وَجَدَ دَاءً بَعْدَ الثَّلَاثِ كُلِّفَ الْبَيِّنَةَ، أَنَّهُ اشْتَرَاهُ وَبِهِ هَذَا الدَّاءُ.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ.
جناب قتادہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور مزید کہا اگر تین ( دن ) رات تک اس میں کسی عیب سے مطلع ہوا تو گواہ پیش کیے بغیر ہی اسے واپس کر سکے گا ۔ اور اگر تین دن کے بعد مطلع ہوا تو اسے گواہ پیش کرنا ہو گا کہ جب اسے خریدا تھا تو اس میں یہ عیب تھا ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ توضیح جناب قتادہ ؓ کا قول ہے ۔
فائدہ۔مذکورہ دونوں روایات سندا ضعیف ہیں۔تاہم علماء کی عام رائے یہی ہے۔کہ اگرکوئی شخص غلام خریدے لیکن اس میں کوئی عیب نکل آئے تو تین دن کے اندر اسے واپس کیا جاسکتا ہے۔اور مالک کے لئے ضروری ہوگا کہ اسے واپس لےلے۔کیونکہ وہ اس بات کا ضامن ہے۔کہ جس غلام کو وہ بیچ رہا ہے۔وہ صحیح ہو اور ہرقسم کے عیب سے پاک ہو۔