فهرس الكتاب

الصفحة 3517 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: شفعہ کا بیان

3517 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِدَارِ الْجَارِ أَوْ الْأَرْضِ

سیدنا سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " گھر کا ہمسایہ ' ہمسائے کے گھر یا زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔ "

1۔شفعہ شفع سے ماخوز ہے اور لغت میں اس کے معنی جوڑا ہونا۔اضافہ کرنا۔اوراعانت کرنا آتے ہیں۔شرعًا یہ ہے کہ ''مشترک یا ملحق زمین ومکان کو فروخت کرتے وقت شریک ساتھی کو جو حق خریداری کا اولین حق رکھتا تھا۔بتائے بغیر کسی اور کو منتقل کردیا گیا ہو۔تو اسے واپس لوٹانا۔شفعہ کہلاتاہے۔بشرط یہ ہے کہ قیمت وہی ہو جو اجنبی نے دی ہو۔2۔حدیث۔1516۔3515۔ میں ہمسائے سے مراد شریک ہے۔جیسا کہ متعدد روایات میں صراحت ہے۔اسی کی تایئد حدیث 3518 سے بھی ہوتی ہے۔ اس میں وضاحت ہے کہ جس ہمسائے کا راستہ ایک ہو وہی ہمسایہ شفعہ کا حقدار ہوگا۔اگر رااستہ مشترک نہ ہو۔بلکہ الگ الگ ہو ایک دوسرے کی حدود متعین ہوں تو پھر محض ہمسایہ ہونے کی بنا پردہ شفعہ کا حق دار نہیں ہوگا۔شفعہ کاحق دارصرف وہی ہوگا جو زمین یا باغ میں شریک ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت