3543 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْغُلَامُ قَالَ غُلَامِي أَعْطَانِيهِ أَبِي قَالَ فَكُلَّ إِخْوَتِكَ أَعْطَى كَمَا أَعْطَاكَ قَالَ لَا قَالَ فَارْدُدْهُ
سیدنا نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے ایک غلام عطا کیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا " یہ غلام کیا اور کیسا ہے ؟ " میں نے عرض کیا کہ یہ میرا غلام ہے ، میرے والد نے مجھے دیا ہے ۔ آپ ﷺ نے پوچھا " کیا اس نے تیرے سب بھائیوں کو اسی طرح دیا ہے جیسے تجھے دیا ہے " میں نے عرض کیا نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " تو اسے واپس کر دے ۔ "
فائدہ۔ظلم کامال بلاطلب ملے تو نہیں لینے چاہیے۔بلکہ واپس کردیا جائے قبول کرلینے میں ظالم اور اس کے معاملے کی تایئد وتوثیق اور اس کی معاونت ہے اور واپس کردینے میں اس سے براءت اور اسکی حوصلہ شکنی ہے۔