3562 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ لَا بَلْ عَمَقٌ مَضْمُونَةٌ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطٍ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا
سیدنا صفوان بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے غزوہ حنین کے موقع پر زرہیں عاریتًا طلب کیں تو اس نے کہا: اے محمد ! کیا زبردستی لینا چاہتے ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " نہیں ' بلکہ عاریتًا ہیں ' ( اگر ضائع ہوئیں تو ) ہم ان کا عوض دیں گے ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ یزید ( یزید بن ہارون ) کی یہ روایت بغداد کی ہے لیکن واسطہ میں جب یہ روایت بیان کی تو الفاظ اس سے مختلف تھے ۔