3630 حدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ.
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے وہ ان کے دادا ( معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو تہمت ( شبہ ) میں قید کیا تھا ۔
فائدہ۔ جس شخص پر الزام ہو مگر حقیقت واضح نہ ہو تو اسے حقیقت واضح ہونے تک تحقیق کی غرض سے مختصر وقت کے لئے قید کرنا جائز ہے ۔تاہم قید کاعرصہ بلاوجہ غیر معمولی طور پر لمبا کرنا (جیسا کہ آج کل معمول ہے۔) شرعا ً محل نظر ہے اس سے بہت سے مفاسد جنم لیتے ہیں۔