3645 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَارِجَةَ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ وَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي فَتَعَلَّمْتُهُ فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ
سیدنا زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے یہودیوں کی تحریر سیکھ لی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " اللہ کی قسم ! یہودیوں سے جو میں لکھواتا ہوں اس پر مجھے اعتماد نہیں ہے ۔ " چنانچہ میں نے ( ان کی زبان لکھنا پڑھنا ) سیکھ لی ، اور دو ہفتے نہ گزرے کہ میں اس میں خوب ماہر ہو گیا ۔ پھر آپ ﷺ کو جب کچھ لکھنا ہوتا تو میں ہی لکھا کرتا ۔ اور جب کوئی خط وغیرہ آتا تو آپ ﷺ کو پڑھ کر سناتا تھا ۔
فوائد ومسائل۔1۔غیر مسلموں کی کسی زبان اورتحریر کاعلم حاصل کرنا دینی اوردنیاوی غرض سے ناجائز نہیں ہے۔مگر اسے اپنی ثقافت کاحصہ بنا لینا ناجائز ہے۔اور جب یہ علم دینی اغراض سے ہو تو اس میں اجر بھی ہے۔2۔اور یہ زبانیں مسلمانوں کے ان افراد کوسکھائی جایئں جن کو ان کی ضرورت ہو۔ ورنہ اسے عام نصاب تعلیم بنا دینا اور لازمی قرار دے دینا دینی ودنیاوی لہاظ سے ظلم عظیم ہے۔