فهرس الكتاب

الصفحة 375 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: بچہ اگر کپڑے پر پیشاب کر دے تو...؟

375 حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ قَابُوسَ عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ الْبَسْ ثَوْبًا وَأَعْطِنِي إِزَارَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ قَالَ إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ

سیدہ لبابہ بنت حارث ؓا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسین بن علی ؓ رسول اللہ ﷺ کی گود میں تھے کہ پیشاب کر دیا تو میں نے کہا کہ آپ دوسرا کپڑا پہن لیں اور یہ چادر مجھے دے دیں کہ اسے دھو دوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " صرف لڑکی کا پیشاب ہی دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں ۔ "

ان احادیث میں رسول اللہ ﷺ کےحسن اخلاق اور تواضع کابیا ن ہے۔آپ بچوں سےبہت پیار کیا کرتےتھے۔اور دودھ پیتے بچے کے پیشاب پرصرف چھینٹے ماردینے کافی ہیں۔تاہم لڑکی کے پیشاب کودھونا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت