فهرس الكتاب

الصفحة 3794 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: سانڈا کھانے کا بیان

3794 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ فَقَالُوا هُوَ ضَبٌّ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ قَالَ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، سیدنا خالد بن ولید ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ( خالد ؓ ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ میمونہ ؓا کے گھر گئے انہیں بھونا ہوا سانڈا پیش کیا گیا ۔ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو بعض خواتین نے جو سیدہ میمونہ ؓا کے گھر میں تھیں کہا: نبی کریم ﷺ جو کھانے لگے ہیں انہیں اس کے متعلق بتا دو ۔ پس صحابہ نے کہا: یہ سانڈا ہے ' تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ۔ سیدنا خالد ؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " نہیں ' لیکن یہ میرے وطن میں نہیں پائے جاتے اس لیے میں طبعی کراہت کی بنا پر اس سے بچتا ہوں ۔ " خالد نے کہا: پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کھا لیا جب کہ رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت