فهرس الكتاب

الصفحة 3806 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: درندوں کا گوشت کھانا حرام ہے

3806 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَأَتَتْ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى حَظَائِرِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَهْلِيَّةِ وَخَيْلُهَا وَبِغَالُهَا وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

سیدنا خالد بن ولید ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھا ۔ چنانچہ یہودی ( رسول اللہ ﷺ کے پاس ) آئے اور شکایت کی کہ لوگ ( مسلمان ) ان کے باڑوں پر چڑھ دوڑے ہیں ( یعنی مال مویشی لوٹ لیے ہیں ) ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " خبردار ! معاہد ( ذمی ) لوگوں کا مال حلال نہیں سوائے اس کے کہ شرعی اور اصولی حق ہو ' تم پر پالتو گدھے ' گھوڑے ' خچر ' کچلیوں والے درندے اور پنجے دار پرندے حرام ہیں ۔ "

فائدہ۔یہ روایت سندا ضعیف ہے۔تاہم گھوڑے کی بابت دیکھئے احادیث 3788۔اور 3790)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت