3817 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ الْمَيْتَةِ قَالَ مَا طَعَامُكُمْ قُلْنَا نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ قَدَحٌ غُدْوَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً قَالَ ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ فَأَحَلَّ لَهُمْ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ قَالَ أَبُو دَاوُد الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ وَالصَّبُوحُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ
سیدنا فجیع عامری ؓ کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور پوچھا: کیا ہمارے لیے مردار حلال نہیں ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " تمہارا طعام کیا ہے ؟ " ہم نے کہا: غبوق اور صبوح ۔ ابونعیم کہتے ہیں کہ عقبہ ( عقبہ بن وہب ) نے مجھے اس کی وضاحت کی کہ ایک پیالہ دودھ صبح اور ایک پیالہ دودھ رات کو ۔ کہا: میرے باپ کی قسم ! یہ تو بڑی سخت بھوک ہے ۔ چنانچہ آپ ﷺ ان کے لیے اس حالت میں مردار کو حلال قرار دیا ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ دن کے آخر میں پی جانے والی چیز کو غبوق اور دن کے شروع میں پی جانے والی کو صبوح کہتے ہیں ۔
فائدہ۔یہ روایت سندا ضعیف ہے۔تاہم دیگرصحیح احادیث کی روشنی میں اگر عرصہ دراز سے یہی حالت ہے تو یہ کیفیت ہلاکت یا شدید بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔اسی لئے یہ ایسا اضطرارہے۔جس میں حرام حلال ہوجاتا ہے۔