فهرس الكتاب

الصفحة 3987 من 5274

کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراءتوں کا بیان

باب:...

3987 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو النَّمَرِيَّ أَخْبَرَنَا هَارُونُ أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ عَنْ عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَتُضِيءُ الْجَنَّةُ لِوَجْهِهِ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ قَالَ وَهَكَذَا جَاءَ الْحَدِيثُ دُرِّيٌّ مَرْفُوعَةٌ الدَّالُ لَا تُهْمَزُ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جنت کے اعلیٰ درجات کے حامل اہل علیین کا ایک شخص اوپر سے جنتیوں پر جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے سے دمک اٹھے گی گویا کوئی چمکتا دمکتا ستارہ ہو ۔ " امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ حدیث کی روایت ایسے ہی ہے «دري» یعنی دال مضموم اور ہمزہ کے بغیر ۔ اور ابوبکر اور عمر ؓ یقینًا انہی میں سے ہیں اور بڑی فضیلت والے ہیں ۔

سورہ نور کی آیت کریمہ (عربی میں لکھا ہے) (النور35) میں یہ لفط دری کی معروف قراءت دال کے ضمہ را اور یا کی شد کے ساتھ ہے۔ جبکہ حمزہ اور ابوبکراسےدال کے ضمہ اور ہمزہ کےساتھ پڑھتے ہیں اور ابوعمر اور کسائی دال کےکسرہ اور ہمزہ کےساتھ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت