4063 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ فَقَالَ أَلَكَ مَالٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ مِنْ أَيِّ الْمَالِ قَالَ قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنْ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ قَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ
جناب ابوالاحوص ( عوف ) اپنے والد ( مالک بن نضلہ ؓ ) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے گھٹیا کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا " کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ " میں نے کہا: ہاں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا کس قسم کا ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے اونٹ ' بکریاں ' گھوڑے اور غلام ہر طرح کا مال عنایت فرمایا ہوا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " جب اللہ نے تمہیں مال دیا ہے تو اس کی نعمت اور احسان کا اثر تجھ پر نظر آنا چاہیئے ۔ "
مستحب ہے کہ انسان اپنی حیثیت کے مطابق مناسب لباس وغیرہ استعمال کرے اور اللہ کا شکر ادا کرے مگر لازم ہے کہ بہت زیادہ مال داری کا اظہاربھی نہ ہوکیونکہ اس طرح دیگر مسلمانوں میں حسرت اور محرومی کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں جو ناپسند یدہ امر ہے ۔