4085 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ أَحَدَ جَانِبَيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِنِّي لَأَتَعَاهَدُ ذَلِكَ مِنْهُ قَالَ لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهُ خُيَلَاءَ
جناب سالم بن عبداللہ اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس نہ تکبر سے اپنا کپڑا لٹکایا ، اللہ قیامت کے روز اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔ " تو سیدنا ابوبکر ؓ نے کہا: میرے تہبند کا ایک پلو ڈھیلا ہو جاتا اور لٹک جاتا ہے اور میں اس کا خیال بھی بہت رکھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " تم ان میں سے نہیں ہو جو تکبر سے ایسا کرتے ہوں ۔ "
1: بیٹھے بیٹھے یا کام کاج میں تہ بند یا شلوار وغیر ہ کا ڈھیلا ہو جانا اور ٹخنوں سے نیچےچلے جانا اس تکبر میں شمار نہیں جس کا ذکر اور کی حدیث میں ہوا ۔
2: صحابہ کرام تعلیمات نبویہ کی روشنی میں انتہائی حساس تھے کہ کسی بھی وقت ان سے کوئی مخالفت نہ ہونے پائے اسی وجہ سے حٖت ابو بکر صدیق رضی اللہ نے وضاحت چاہی تھی، اس سے انہیں اور دیگر مسلمانوں کے لئے راحت ہو گئی اور شدت نہ رہی مگر آخری جملے کو اپنے لئے دلیل سمجھ لینا کسی طرح جائز نہیں جیسا کہ اوپر وضاحت گزری ہے ۔