فهرس الكتاب

الصفحة 411 من 5274

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

باب: نماز عصر کا وقت

411 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ قَالَ سَمِعْتُ الزِّبْرِقَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَنَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقَالَ إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ

جناب عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے ، وہ سیدنا زید بن ثابت ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز دوپہر کے وقت میں پڑھا کرتے تھے اور اصحاب رسول کے لیے اس نماز سے بڑھ کر اور کوئی نماز سخت نہ ہوتی تھی ۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» " نمازوں کی پابندی کرو اور درمیانی نماز کی ۔ " ( زید بن ثابت نے ) کہا: اس سے پہلے دو نمازیں ہیں ( یعنی عشاء اور فجر ، رات کی ) اور اس کے بعد بھی دو نمازیں ہیں ( یعنی عصر اور مغرب ، دن کی ) ۔

یہ توجیہ حضرت زید بن ثابت کااپنا اجتہاد ہےکہ اس سے نماز ظہر مراد ہے۔دیگر صحیح احادیث سےنماز عصر ثابت ہوتی ہے۔ہوسکتاہےکہ وہ احادیث ان کےعلم میں نہ ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت