فهرس الكتاب

الصفحة 4165 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: عورتوں کے لیے مہندی کا بیان

4165 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ، عَنْ جَدَّتِهَا، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! بَايِعْنِي، قَالَ: >لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ، كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ!.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! مجھ سے بیعت لے لیجئیے ! آپ ﷺ نے فرمایا " میں اس وقت تک تمہاری بیعت نہیں لوں گا جب تک کہ تم اپنی ہتھیلیوں کو رنگ نہ لو ' یہ تو گویا درندے کی ہتھیلیاں ہیں ۔ "

یہ روایت ضعیف ہے اس لیئےعورتوں کے لیئے ہاتھوں کا مہندی دے رنگناضروری یعنی فرض و واجب نہیں ہے جیسا کہ اس روایت سے متبادر ہو تا ہے تاہم مردوں سے امتیاز کے لیئے عورت کا مہندی لگانا دوسرے دلائل سے ثابت ہے اس لیے اس کے استحباب (پسندیدہ عمل ہونے) میں کو ئی شک نہیں مگر اسکا استعمال اس طرح جائز نہیں جیسے آجکل ہاتھوں ،کلائیوں اور پاؤں پر بھی بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں کہ جس نے نا بھی دیکھنا ہو وہ بھی دیکھے۔یہ صورتحال صریحاََحرام ہے کہ عورت غیروں کے لیئے خوامخوا کشش کا باعث بنتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت