فهرس الكتاب

الصفحة 4175 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: عورت باہر جاتے ہوئے خوشبو نہ لگائے

4175 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلْقَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا, فَلَا تَشْهَدَنَّ مَعَنَا الْعِشَاءَ. قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ: عِشَاءَ الْآخِرَةِ.

سیدنا ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس عورت نے خوشبو کی دھونی لی ہو ' وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں شریک نہ ہو ۔ " ابن نفیل نے «عشاء الآخرة» کے لفظ روایت کیے ۔

عود و لوبان کی خوشبو کا ایک انداز عرب میں یہ ہے کہ وہ لوگ اس کی دھونی لیتے ہیں۔ اس سے اس کی خوشبو ان کے جسم اور کپڑوں میں بس جاتی ہے۔ جو بہت ہلکی ہوتی ہے اور بھلی لگتی ہے جب ہلکی خوشبو حرام ہے تو تیز خوشبو اور بھی زیادہ قبیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت