فهرس الكتاب

الصفحة 4189 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: مانگ نکالنے کا بیان

4189 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَفْرُقَ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, صَدَعْتُ الْفَرْقَ مِنْ يَافُوخِهِ، وَأُرْسِلُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ میں جب رسول اللہ ﷺ کے بالوں میں مانگ نکالنے لگتی تو آپ ﷺ کے سر کے بیچوں بیچ سے نکالتی اور آپ ﷺ کی پیشانی کے بالوں کو آپ کی آنکھوں کے سامنے لٹکاتی ( یعنی پھر انہیں آدھو آدھ کر دیتی ) ۔

ٹیڑھی مانگ نکالنااسوہ رسولﷺ کے خلاف اور مشرکین اور کفار کی موافقت اور مشابہت ہے اس لیئے مسلمانوں کو اس بد عادت سے باز رہنا چاہیئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گاتو وہ اُنہی میں سے ہو گا (سنن ابی داؤد اللباس حدیث4031 )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت