فهرس الكتاب

الصفحة 4195 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: بچوں کی زلفوں کا بیان

4195 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ، وَتُرِكَ بَعْضُهُ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: احْلِقُوهُ كُلَّهُ، أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ.

سیدنا ابن عمر ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال مونڈ دیے گئے تھے اور کچھ چھوڑے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے انہیں اس سے منع فرمایا اور کہا: " اس کے سارے بال مونڈ دو یا سارے رکھو ۔ "

مسلمانوں کومشرکین اور کفار کی تقلیدو نقالی سے احتراز کرنا واجب ہے۔ بچوں کا معاملہ ان کے والدین اور سرپرستوں سے متعلق ہے۔ ان پر لازم ہے کہ بچوں کے لباس اور حجامت میں اسلامی ثقافت کو ملحوظِ خاطر رکھا کریں۔ اور یہ معا ملہ جب بچوں میں ناجائز ہے تو بڑوں کے لیئے بطریقِ اولیٰ ناجائز ہو گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت