فهرس الكتاب

الصفحة 4197 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: زلفیں بڑھا لینے کی رخصت

4197 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ، قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ, وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ، فَمَسَحَ رَأْسَكَ، وَبَرَّكَ عَلَيْكَ، وَقَالَ: احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا, فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ.

حجاج بن حسان نے بیان کیا کہ ہم سیدنا انس بن مالک ؓ کے ہاں گئے ۔ میری بہن مغیرہ نے بیان کیا کہ تم ان دنوں نوعمر بچے تھے اور تمہارے بالوں کی دو لٹیں تھیں ۔ تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہارے لیے برکت کی دعا کی اور فرمایا: انہیں مونڈ ڈالو یا کتروا لو ۔ بلاشبہ یہ یہودیوں کی علامت ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت