فهرس الكتاب

الصفحة 4200 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: مونچھیں کتروانے کا بیان

4200 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَدُقَةُ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَ الْعَانَةِ، وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ، وَقَصَّ الشَّارِبِ، وَنَتْفَ الْإِبِطِ, أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَنَسٍ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, قَالَ: وُقِّتَ لَنَا وَهَذَا أَصَحُّ.

سیدنا انس بن مالک ؓ نے روایت کیا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے حد مقرر کر دی تھی کہ زیر ناف کی صفائی ' ناخن تراشنے ' مونچھیں کاٹنے اور بغلوں کے بال اکھیڑنے کا عمل چالیس دن میں ایک بار ( ضرور ) کر لیا جائے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اس روایت کو جعفر بن سلیمان نے بواسطہ ابو عمران ' سیدنا انس ؓ سے روایت کیا ' مگر نبی کریم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ۔ اور کہا: " ہمارے لیے یہ حد مقرر کی گئی تھی ۔ " اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ اور صدقہ دقیقی قوی راوی نہیں ہے ۔

یہ روایت سندَا ضعیف ہے تاہم چالیس دن کی مدت کی بابت صحیح مسلم میں روایت موجود ہے۔دیکھیئے ( صحیح مسلم الطھارۃ باب خصال الفطرۃ حدیث 658) علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو بھی صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیئے صحیح ابو داؤد کتاب وہاب مذکور۔) لہذا معلوم ہوا کہ چالیس دن کی مدت زیادہ سے زیادہ ہے۔ اس سے آگے بڑھنا جائز نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت