فهرس الكتاب

الصفحة 4259 من 5274

کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان

باب: فتنے میں سرگرم ہونا حرام ہے

4259 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ, يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ، فَإِنْ دُخِلَ- يَعْنِي- عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ, فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ.

سیدنا ابوموسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " بیشک قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اتنے سیاہ کالے جیسے اندھیری رات ( یعنی حق اور باطل گڈ مڈ ہو جائے گا ) آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ۔ شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر ۔ اس میں بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے کی نسبت بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ۔ سو اپنی کمانوں کو توڑ دینا اور تانتوں کو کاٹ پھینکنا اور اپنی تلواروں کو پتھروں پر مارنا ( اور کند کر لینا ) اگر کوئی تم پر چڑھ آئے تو سیدنا آدم علیہ السلام کے بہتر بیٹے کی مانند ہو جانا ۔ "

حضرت آدم ؑ کا بہتر بیٹا وہی تھا جس نے قتل ہونا قبول کر لیا تھا (یعنی ہابیل) اور قاتل بننے سے گریز کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت