4278 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ، عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا, الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے ، آخرت میں اس پر عذاب نہیں ، اس کا عذاب دنیا میں فتنوں ، زلزلوں اور قتل کی صورت میں ہے ۔ "
آخرت میں اس امت کے اہلِ ایمان کے لیئے ابدی عذاب نہیں ہے۔ ان کے لیئے دنیا میں پیش آنے والی انفرادی اور اجتماعی آزمائشیں آخرت کے عذاب سے کفارہ بن جا ئیں گی۔ انشا اللہ