430 قال ابو سعید بن الاعرابی:حدثنامحمد بن عبد الملک بن یزید الرواس۔یکنی۔قال: حدثنا ابوداؤد: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْكٍ الْأَلْهَانِيِّ أَخْبَرَنِي ابْنُ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى إِنِّي فَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا أَنَّهُ مَنْ جَاءَ يُحَافِظُ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلَا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي
۔ جناب سعید بن مسیب نے کہا کہ سیدنا ابوقتادہ بن ربعی ؓ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور اپنے لیے یہ عہد کیا ہے کہ جو شخص اس حال میں ( میرے پاس ) آیا کہ ان کے اوقات کی محافظت و پابندی کرتا رہا ، میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو ان کی محافظت نہ کرتا رہا اس کے لیے میرے ہاں کوئی عہد اور وعدہ نہیں ہے ۔"
(1) ایسی احادیث جن میں ایسے الفاظ آتےہیں کہ ''اللہ تعالی کاارشاد ہے،، ان کو'' حدیث قدسی ،، کہتےہیں۔قرآن مجید اور حدیث قدسی میں فرق یہ کہ قرآن مجید وحی متلو ہے اور دوسرے غیر متلو۔ یعنی قرآن کی تلاوت کی جاتی ہےاور حدیث یا دیگر احادیث کی تلا وت نہیں ہوتی ۔قرآن مجید کلام معجز ہے اور احادیث اس پائے کی نہیں ہیں۔قرآن مجید متواترہے اور احادیث سب اس درجہ کی نہیں ہیں۔دیگر فرق اور مباحث ''علوم القرآن ،، کی کتب میں میں ملاحظہ ہوں۔
(2) نمازوں کے اوقات کےمخافظت کےساتھ ساتھ دیگر آداب ( طہارت ،خشوع او راعتدال وغیرہ ضروری ہیں۔
(3) اللہ عزوجل پرکوئی واجب کرنےوالا نہیں ہے ۔ اس نےمحض اپنے فضل وکرم سےبندوں کےلیے اس قسم کےوعدے اپنے اوپر لازم فرمائے ہیں اور وہ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا ( ان اللہ لا یخلف المیعاد ) ( آل عمران:9)