4396 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتِ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ- تَعْنِي: حُلِيًّا- عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلَا تُعْرَفُ هِيَ! فَبَاعَتْهُ، فَأُخِذَتْ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا, وَهِيَ الَّتِي شَفَعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے بیان کیا کہ ایک عورت نے کئی معروف لوگوں کے نام سے کچھ زیورات عاریتًا لیے جب کہ وہ خود کوئی معروف نہ تھی ۔ پھر وہ زیورات اس نے بیچ ڈالے ' تو پکڑ لی گئی اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لائی گئی تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا ۔ اور یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں سیدنا اسامہ بن زید ؓ نے سفارش کی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں جو کچھ کہنا تھا کہا ۔