4437 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَهَا، عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا.
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے ، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بدکاری سے انکار کیا ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس آدمی کو حد کے ( سو ) کوڑے لگائے اور اس عورت کو چھوڑ دیا ۔
یعنی اس کوغیرشادی شدہ زانی کی حد (سو کوڑے) لگائی گئی۔ لیکن اگلی روایات میں صراحت ہے کہ یہ معلوم ہونے پر کہ یہ شخص توشادی شدہ ہے اسے سنگساری کی سزا دی گئی۔