4441 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، يَعْنِي: فَشُدَّتْ.
جناب اوزاعی سے مروی ہے ، انہوں نے کہا کہ اس پر اس کے کپڑے سخت کر کے باندھے گئے ۔
1)كسی شخص کا قاضی اور امام کے روبروازخوداعتراف کرنا کہ اس نے قابل حد جرم کاارتکاب کیا ہے بہت بڑی ہمت اور عزیمت کی بات ہے جو اسکے صاحب ایمان ہونے کی دلیل ہے۔
2)عورت اگر زنا سے حاملہ ہوتووضع حمل بلکہ بچے کے سنبھلنے تک اس کی حد کو موخر کر دینا چاہئے
3)عورت کو حد لگانے سے پہلے اس کے کپڑے مضبوطی سے باندھ لینے چاہئیں تاکہ بے پردہ نہ ہو
4)سنگسار شدہ پر نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے لیکن اگر وہ فسق وفجور میں مشہور ہوتوامام اور دیگراشراف اس میں شریک نہ ہوں تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔