4457 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ, فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَآخُذَ مَالَهُ.
جناب یزید بن براء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا میں اپنے چچا سے ملا جب کہ ان کے پاس جھنڈا تھا ۔ میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کیا ہے ' آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں ۔
جس نے جانتے بوجھتے بغیر کسی اشتباہ کے اپنی کسی محرم سےنکاح کیا ہو یا بدکاری کی ہو تواس کی حد قتل ہے۔