فهرس الكتاب

الصفحة 4486 من 5274

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان

باب: جو شخص باربار شراب پیے

4486 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَا أَدِي أَوْ مَا كُنْتُ لِأَدِيَ مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا إِلَّا شَارِبَ الْخَمْرِ, فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا, إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ قُلْنَاهُ نَحْنُ.

امیرالمؤمنین سیدنا علی ؓ کہتے ہیں کہ میں کسی پر حد قائم کروں ( اور وہ مر جائے ) تو کسی کی دیت نہ دوں سوائے شراب نوش کے ۔ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں کوئی حد متعین نہیں فرمائی تھی ۔ یہ حد ہم نے ( مشورے سے ) طے کی ہے ۔

اس مسئلے میں پچھلا باب لاخطہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اسبات سے بالاتر تھے کہ شریعت میں کوئی چیز محض اپنی رائے سے ناٖفذ کریں ۔ انہوں نے شرعی اصولوں کے تحت اجتہاد اور مشورے سے یہ حد متعین کی ہے۔ اور یہ اصولبالکل حق ہے کہ حد لگانے میں مجرم کی صحت اور برداشت کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت