فهرس الكتاب

الصفحة 4522 من 5274

کتاب: دیتوں کا بیان

باب: قسامت کی وجہ سے قصاص نہ لینے کا بیان

4522 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ عَنْ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ بِبَحْرَةِ الرُّغَاءِ عَلَى شَطِّ لِيَّةِ الْبَحْرَةِ قَالَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْهُمْ وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةٍ أَقَامَهُ مَحْمُودٌ وَحْدَهُ عَلَى شَطِّ لِيَّةَ

جناب عمرو بن شعیب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نصر بن مالک کے ایک آدمی کو قسامت کے فیصلے کی بنا پر ( قصاص میں ) قتل کیا تھا ۔ یہ قبیلہ ( طائف کے مضافات میں ) لیہ شہر کے کنارے بحرۃ الرغاء کے مقام پر سکونت پذیر تھا ۔ راوی نے کہا کہ قاتل اور مقتول ان میں سے تھے ۔ یہ الفاظ محمود بن خالد کے ہیں ۔ جس نے وضاحت سے " بحرۃ الرغاء " اور " شط لیہ " کے الفاظ بیان کیے ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت