4529 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً كَانَ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ لَهَا فَرَضَخَ رَأْسَهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ فَقَالَتْ لَا بِرَأْسِهَا قَالَ مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ قَالَتْ لَا بِرَأْسِهَا قَالَ فُلَانٌ قَتَلَكِ قَالَتْ نَعَمْ بِرَأْسِهَا فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی اپنے چاندی کے زیور پہنے ہوئے تھی کہ ایک یہودی نے پتھر سے اس کا سر کچل دیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ اس لڑکی کے پاس آئے جب کہ ( ابھی ) اس میں زندگی کی رمق باقی تھی ۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا " تجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ کیا فلاں نے قتل کیا ہے ؟ " اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا نہیں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا " تجھے کس نے قتل کیا ہے ، کیا فلاں نے قتل کیا ہے ؟ " اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا نہیں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا " کیا فلاں نے تجھے قتل کیا ہے ؟ " اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا ہاں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے دو پتھروں میں رکھ کر قتل کیا گیا ۔
اس سے معلوم ہوا کہ قصاص میں قاتل ہی کو قتل کیا جائے گا ،چاہے وہ کسی مردکا قاتل ہو یا عورت کا یہاں عورت کے قصاص میں مر دکو قتل کیا گیا ،کیونکہ وہ اس عورت کا قاتل تھا ۔