فهرس الكتاب

الصفحة 4533 من 5274

کتاب: دیتوں کا بیان

باب: اگر کوئی شخص کسی غیر کو اپنی بیوی کے پاس پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟

4533 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ نَعَمْ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: فرمائیے کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پاؤں تو کیا اسے چھوڑ دوں حتیٰ کہ چار گواہ لاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " ہاں ۔"

دوسری احادیث میں ہے ،رسول اللہ ؐ نے فرمایا دیکھو سعد کس قدر غیرت مندہے اور میں اس سے زیادی غیرت مند ہوں اور اللہ سب سے بڑھ کر غیرت والا ہے۔

2: اس حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ صاحب ایمان کو اللہ کی حدود پر ٹھہرنے والا ہونا چاہیے نہ ان سے تجاوز کرنے والا ۔ اسلام میں انسانی جان کی بہت زیادہ قدراہمیت ہے اور اس قسم کے حادثے میں بھی کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں بلکہ چار گواہوں یا اقرر ہو تو تن رجم ہو گا ۔ اگر گواہ ہوں ،نہ عورت کا اقراربلکہ صرف خاوند کا دعوی ہو تو اس صورت میں رجم نہیں ہو گا ،بلکہ لعان ہو گا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت