فهرس الكتاب

الصفحة 4538 من 5274

کتاب: دیتوں کا بیان

باب: مار پیٹ سے قصاص اور حاکم کا اپنے سے قصاص دلوانا

4538 حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ حِصْنًا أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمُقْتَتِلِينَ أَنْ يَنْحَجِزُوا الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ وَإِنْ كَانَتْ امْرَأَةً قَالَ أَبُو دَاوُد بَلَغَنِي أَنَّ عَفْوَ النِّسَاءِ فِي الْقَتْلِ جَائِزٌ إِذَا كَانَتْ إِحْدَى الْأَوْلِيَاءِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ فِي قَوْلِهِ يَنْحَجِزُوا يَكُفُّوا عَنْ الْقَوَدِ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " لڑائی کرنے ( قصاص کا مطالبہ کرنے ) والے بدلہ لینے میں حوصلے سے کام لیں ( جلدی نہ کریں ) ۔ وارثوں میں سے معاف کرنے کا حق درجہ بدرجہ ہے ، خواہ کوئی عورت ہی ہو ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے کہا: «ينحجزوا» کے معنی ہیں " قصاص لینے سے رک جانا ۔ " مزید فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قتل کے معاملے میں وارثوں میں اگر کوئی عورت بھی ہو تو وہ بھی معاف کر سکتی ہے ۔ اور «أن ينحجزوا» کے معنی کے سلسلے میں ابوعبیدہ سے مجھے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا مفہوم ہے " قصاص لینے سے باز رہیں ۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت