4573 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرْ: وَأَنْ تُقْتَلَ، زَادَ: بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِ هَذَا
جناب طاؤس کہتے ہیں کہ سیدنا عمر ؓ منبر پر کھڑے ہوئے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا مگر اس میں " اس عورت ( قاتلہ ) کے قتل کیے جانے کا ذکر نہیں کیا ۔" البتہ ( جنین کے بدلے میں ) ایک غلام یا لونڈی دیے جانے کا بیان کیا ۔ طاؤس نے کہا: اس پر سیدنا عمر ؓ نے کہا: «الله اكبر» ، اگر میں یہ نہ سنتا تو اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کر بیٹھتا ۔