فهرس الكتاب

الصفحة 4575 من 5274

کتاب: دیتوں کا بیان

باب: پیٹ کے بچے کی دیت

4575 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ وَبَرَّأَ زَوْجَهَا وَوَلَدَهَا قَالَ فَقَالَ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ مِيرَاثُهَا لَنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کا شوہر بھی تھا اور بچہ بھی ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عاقلہ پر ڈالی ۔ اس قاتلہ کے شوہر اور بیٹے کو اس دیت کی ادائیگی سے بری رکھا ۔ تو مقتولہ کے عاقلہ کہنے لگے کہ اس کی میراث ہمارا حق ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " نہیں اس کی وراثت اس کے شوہر اور بیٹے کا حق ہے ۔ "

اس روایت کو بعض محقیقین نے صحیح قراردیا ہے (عاقلہ ) سے مراد وہ لوگ ہیں جو وراثت کے متعینہ حصے دے دیے جانے کے بعد باقی مال سمیٹ لیتے ہیں جیسے کی باپ ،بیٹا ،بھائی اور چچا وغیرہ مگر اس حدیث میں بیٹے کو عاقلہ سے خارج رکھا گیا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت