4586 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُمْ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَطَبَّبَ وَلَا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ قَالَ نَصْرٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا الْوَلِيدُ لَا نَدْرِي هُوَ صَحِيحٌ أَمْ لَا
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو ایسے ہی طبیب بن کر علاج کرے اور طبابت اور علاج معالجے میں مشہور نہ ہو تو وہ ذمہ دار ہے ۔ " نصر بن عاصم نے اپنی سند میں کہا: «حدثني ابن جريج» ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں: یہ صرف ولید بن مسلم کی روایت ہے ، ہمیں معلوم نہیں کہ صحیح ہے یا نہیں ۔
بعض محققین کے نزدیک مذکورہ روایت حسن ہے ان کے نزدیک عطائی قسم کے غیر معروف طبیب اورمعالج اگر اپنے علاج سے کسی نقصان کردیں تو وہ ضامن اور ذمہ دار ہیں اور لوگوں کو بھی ایسے عطائیوں سے محتاط رہنا چاہیے ۔