فهرس الكتاب

الصفحة 4630 من 5274

کتاب: سنتوں کا بیان

باب:( صحابہ کرام ؓ میں )تفضیل کا بیان

4630 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ أَحَقَّ بِالْوِلَايَةِ مِنْهُمَا, فَقَدْ خَطَّأَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَالْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارَ! وَمَا أُرَاهُ يَرْتَفِعُ لَهُ مَعَ هَذَا عَمَلٌ إِلَى السَّمَاءِ.

جناب سفیان ثوری کہا کرتے تھے جس شخص کا یہ گمان ہو کہ سیدنا علی ؓ ، سیدنا ابوبکر ؓ اور سیدنا عمر ؓ کی نسبت خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، مہاجرین اور انصار ؓم کو غلطی پر سمجھا ۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کی طرف اٹھتا ہو ۔

مہاجرین اور انصار اور کل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام طبقات انسانی میں وہ محترم طبقہ ہیں جن کو اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور اپنے دین کی نصرت کے لیے منتخب فرمایا ۔تو ان سب کی اجتماعی رائے کوباطل کس طرح قرار دیا جاسکتا ۔بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی معصوم نہیں مگر کیا وہ اس قدر ہی گزرگئے تھے کہ اپنے اجتماعی معاملات کو راہ حق وصواب پر چلانے سے قاصر تھے۔حاشاوكلا!وہ یقینًا علم و فضل کی طرح فہم وفراست میں بھی سب سے افضل واعلی تھےاور انہی فضائل کی بناء پر اللہ عزوجل نے ان کی قرآن مجید میں مدح فرمائی ہے۔انہوں نے اپنی شوری سے جن کو اپنا قائد بنایاوہ صحیح معنی میں افضل ترین لوگ تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت