فهرس الكتاب

الصفحة 4664 من 5274

کتاب: سنتوں کا بیان

باب: فتنے کے دنوں میں ان باتوں کو عام موضوع بحث نہیں بنانا چاہیے

4664 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ ضُبَيْعَةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا لَا تَضُرُّهُ الْفِتَنُ شَيْئًا، قَالَ: فَخَرَجْنَا، فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ، فَدَخَلْنَا، فَإِذَا فِيهِ مُحَمَّدُ ابْنُ مَسْلَمَةَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: مَا أُرِيدُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ أَمْصَارِكُمْ حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ.

جناب ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا حذیفہ ؓ کے ہاں گئے تو انہوں نے کہا: میں یقینًا اس آدمی کو جانتا ہوں جسے فتنے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ کہا کہ پھر ہم ان کے ہاں سے نکلے تو ہمیں ایک خیمہ نظر آیا ، ہم اس میں چلے گئے ، تو دیکھا کہ اس میں سیدنا محمد بن مسلمہ ؓ ہیں ۔ ہم نے ان سے اس ( تنہائی اور گوشہ گیری ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کا کوئی فتنہ مجھے اپنی لپیٹ میں لے لے حتیٰ کہ یہ صورت حال صاف ہو جائے ( فتنے ختم ہو جائیں ) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت