4696 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: لَقِيَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَذَكَرْنَا لَهُ الْقَدَرَ، وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ: قَالَ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَا نَعْمَلُ, أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى؟ أَوْ فِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: >فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا وَمَضَىإِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ
جناب یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے ملے اور ان سے تقدیر اور دیگر مسائل جو وہ لوگ بولتے تھے ، دریافت کیے ، تو مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیے اور مزید کہا: مزینہ یا جہینہ کے آدمی نے آپ ﷺ سے دریافت کیا: اے اﷲ کے رسول ! ہم عمل کس بنا پر کریں ؟ کیا یہ جان کر کہ سب کچھ طے ہو چکا ہے یا یہ سمجھ کر کہ معاملہ نیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " یہ سمجھ کر کہ سب کچھ طے ہو چکا ہے ۔ " تو قوم میں سے ایک نے کہا: تو پھر عمل کیوں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " بلاشبہ جنتی اہل جنت کے عملوں کی توفیق دیے جاتے ہیں اور دوزخی اہل جہنم کے عملوں کی توفیق دیے جاتے ہیں ۔ "
مسلسل عمل کرنا انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے تو جو کوئی اپنے اعمال میں خیر پائے اسے اللہ کا شکر کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا چاہیے اور مزید محنت کرنی چاہیے اور جس کے اعمال ہوں تو وہ توبہ کرے اور اپنے اعمال بد ل کر خیراپنائے ۔ اللہ عزوجل تو نہ قبول کرنے والا اور نیکی کی توفیق دینے والا ہے ،غلط سے صحیح کی یہ تبدیلی اللہ تعالی کو پہلے ہی معلوم ہے