فهرس الكتاب

الصفحة 4822 من 5274

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

باب: دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنے کا بیان

4822 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِيهِ, أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَامَ فِي الشَّمْسِ، فَأَمَرَ بِهِ فَحُوِّلَ إِلَى الظِّلِّ.

جناب قیس ( قیس بن ابوحازم ) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فر رہے تھے ۔ تو یہ دھوپ میں کھڑے ہو گئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو سائے میں چلے گئے ۔

اطباء بھی یہی کہتے ہیں کی انسان ی سارا دھوپ میں ہو یا سارا ہی سائے میں

ہو۔ آدھا دھوپ میں ہونا اور آدھا سائے میں ہونا طبی طور پر نقصان دہ ہے۔ خاص طور پر شدید گرمی والے علاقوں میں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت