4824 حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا، قَالَ: كَأَنَّهُ يُحِبُّ الْجَمَاعَةَ.
جناب اعمش ؓ نے یہ روایت بیان کی اور کہا گویا آپ ﷺ نے اجتماعیت کو پسند فرمایا ۔
اگر اہلِ اجتماع کا موضوع ایک ہو تو افضل اور مستحب یہی ہے کہ ایک حلقے میں بیٹھیں۔ لیکن اگر موضوعات مختلف ہوں تو حلقے بنا لینا جائز ہے جیسے کہ طلباءِ علم اور اصحابِ ذوق میں ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ نماز کی جماعت کے انتظار میں حلقے بنا کر بیٹھنا معیوب ہے چاہیے کی ترتیب سے صف میں جگہ بنا کر بیٹھا جائے۔