فهرس الكتاب

الصفحة 4828 من 5274

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

باب: اگر کوئی کسی دوسرے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ جائے تو ؟

4828 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَذَهَبَ لِيَجْلِسَ فِيهِ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْخَصِيبِ اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

سیدنا ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو ایک آدمی اس کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ' وہ ( آنے والا ) وہاں بیٹھنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے اس کو منع فر دیا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ابو خصیب کا نام زیاد بن عبدالرحمٰن ہے ۔

)یہ ممانعت بھی احتیاط کے طور پر ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کی جگہ پر نہ بیٹھیں۔ ورنہ اگر کو ئی شخص احتراماَ کسی دوسرے کو اپنی جگہ بیٹھنے کی پیشکش کرتا ہے تو دیگر دلائل کی رُو سے اسکا جواز ہے۔

2)یہ رویت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک ضعیف ہے تاہم معنوی طور پر صحیح ہے جیسا کہ خود اُنھوں نے اپنی تحقیق میں بخاری و مسلم کی روایات کا حوالہ درج کرنے کے بعد یغنی عنة یعنی بخاری اور مسلم کی روایات کفایت کرتی ہیں کہا ہے۔ علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے بھی اسے حسن کہا ہے، تفصیل کے لیئے دیکھئے: ( الصحٰحة حديث 228)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت