فهرس الكتاب

الصفحة 5043 من 5274

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل

باب: باوضو ہو کر سونے( کی فضیلت )کا بیان

5043 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ, أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ.

قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي: بَالَ.

سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اٹھے قضائے حاجت کے لیے گئے ۔ پھر اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے پھر سو گئے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ «قضى حاجته» سے مراد ہے پیشاب کیا ۔

۔ باوضو ہوکرسونے کے معنی یہ ہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں وضو کرکے بستر پر جانے کے علاوہ اگر رات کے کسی حصے میں جاگے اور قضائے حاجت وغیرہ کے لئے جائے تو دوبارہ بھی مسنون وضو کرکے سوئے تو یہ بہت ہی افضل عمل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت