فهرس الكتاب

الصفحة 5152 من 5274

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل

باب: ہمسائیگی کے حقوق کا بیان

5152 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَعِيلَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ ذَبَحَ شَاةً فَقَالَ أَهْدَيْتُمْ لِجَارِي الْيَهُودِيِّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ

سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور پھر پوچھا: کیا تم نے میرے یہودی ہمسائے کی طرف بھی کچھ بھیجا ہے ؟ بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ ﷺ فرماتے تھے " جبرائیل امین مجھے ہمسائے کے متعلق وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے وارث ہی بنا دیں گے ۔

ہمسایہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا شرعی فریضہ ہے علماء کابیان ہے کہ غیر مسلم ہمسائے کا صرف ایک حق ہے۔یعنی حق ہمسائیگی اور مسلمان ہمسائے کے دو حق ہیں۔ایک حق ہمسایئگی دوسرا حق اسلام جب کہ مسلمان رشتہ دار ہمسائے کے تین حق ہوتے ہیں۔حق ہمسائیگی حق اسلام اور

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت