فهرس الكتاب

الصفحة 5190 من 5274

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل

باب: جب آدمی کو بلوایا جائے اور وہ بلانے والے کے ساتھ چلا آئے تو کیا یہ اجازت کے ہم معنی ہے؟

5190 حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ إِذْنٌ قَالَ أَبُو عَلِىٍّ الْلُّؤْلُؤِيُّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ قَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي رَافِعٍ شَيْئًا

سیدنا ابو ہریرۃؓ سے روایت ہے'رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جب کسی کو کھانے پر بلایا جائے اور وہ بلانے والے کے ساتھ چلا آئے تو یہی اجازت ہے۔''

امام ابو داؤد ؓ نے فرمایا:کہا جاتا ہے کہ قتادہ نے ابو رافع سے کچھ نہیں سنا۔

احوال وظروف کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا دوبارہ اجازت کی ضرورت ہے کہ نہیں۔جب پردے کا معاملہ نہ ہو یا خاص مجلس نہ ہو تو اجازت کی ضرورت نہیں ۔ورنہ مستورات کی وجہ سے اطلاع تو دینی ہو گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت