5196 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ يَزِيدَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ زَادَ ثُمَّ أَتَى آخَرُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ فَقَالَ أَرْبَعُونَ قَالَ هَكَذَا تَكُونُ الْفَضَائِلُ
جناب سہل اپنے والد ( معاذ بن انس ) سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا ۔ اس میں اضافہ ہے کہ پھر ایک ( چوتھا آدمی ) آیا تو اس نے کہا: السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ تو آپ ﷺ نے فرمایا چالیس ( چالیس نیکیاں ملیں ) اور نیکیاں ایسے ہی بڑھتی ہیں ۔
یہ روایت ضعیف ہے ،اس لیے سلام کرنے والے کو صرف وبرکاتہ تک کہنا چاہیے ،البتہ جواب دینے والے کے لئے ومغفرتہ کا اضافہ جائز ہے ۔ جیسے کہ حدیث میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلمہمیں سلام کرتے تو ہم جواب میں وعلیک اسلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ کہتے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے (الصحیحۃ:3/433حدیث:1449