فهرس الكتاب

الصفحة 5201 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: دو آدمی جدا ہوں اور پھر ملیں تو بھی سلام کہیں( خواہ جدائی تھوڑی ہی دیر کی ہو )

5201 حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيَدْخُلُ عُمَرُ

سیدنا ابن عباس ؓ نے روایت کیا کہ سیدنا عمر ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ ﷺ اپنے حجرے میں تھے ۔ انہوں نے کہا: «السلام عليك يا رسول الله السلام عليكم» کیا عمر اندر آ سکتا ہے ؟

یہ ایک لمبی حدیث کا حصہ ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ نے پہلی اور دوسری بار اجازت طلب کی تو نہ ملی پھر طلب کی تو مل گئی ۔ اس وقفے میں آپ بار بار اسلام علیکم کہتے رہے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت