فهرس الكتاب

الصفحة 5203 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: بچوں کو سلام کہنا

5203 حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ فِي الْغِلْمَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ أَوْ قَالَ إِلَى جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ

سیدنا انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ میں لڑکوں میں سے ایک لڑکا تھا ۔ پس آپ ﷺ نے ہمیں السلام علیکم کہا ۔ پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک پیغام دینے کے لیے بھیج دیا ۔ اور خود ایک دیوار کے سائے میں یا کہا دیوار کے ساتھ ہو کر بیٹھ رہے حتیٰ کہ میں آپ ﷺ کے پاس واپس آ گیا ۔

1: بچوں کو سلام کہنا چاہیے اس میں بڑے آدم کے لئے کوئی ہتک والی بات نہیں ،بلکہ بچوں کی تعلیم وتربیت اور ان کے ساتھ انس وپیار کا اظہار ہے ۔

2:ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قراردیا ہے ،جبکہ شیخ البانی ؒ نے اس روایت کی بابت کہا ہے کہ اس روایت میں مذکور (وقعد فی ظل جدار۔۔۔۔۔) کے الفاظ صحیح نہیں ہیں ،باقی روایت صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت