فهرس الكتاب

الصفحة 5217 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: سلام عام کرنے کا حکم

5217 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا وَقَالَ الْحَسَنُ حَدِيثًا وَكَلَامًا وَلَمْ يَذْكُرْ الْحَسَنُ السَّمْتَ وَالْهَدْيَ وَالدَّلَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهَا كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے بیان کیا کہ میں نے کسی کو نہیں پایا کہ وہ اپنی عادات ، چال چلن اور بات چیت میں سیدہ فاطمہ ؓا سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے مشابہ ہو ۔ حسن بن علی کی روایت میں «حديثا وكلاما» کے لفظ وارد ہیں ۔ «السمت والهدى والدل» کے الفاظ نہیں ہیں ۔ جب وہ آپ کے ہاں آتیں تو آپ ﷺ اٹھ کر ان کی طرف بڑھتے ، ان کا ہاتھ پکڑتے ، بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھا لیتے اور ( اسی طرح ) جب آپ ان کے ہاں جاتے تو وہ اٹھ کر آپ ﷺ کی طرف بڑھتیں ، آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑتیں بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھا دیتیں ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت