فهرس الكتاب

الصفحة 5219 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: باپ کا اپنے بیٹے کو بوسہ دینا

5219 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ وَقَرَأَ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ فَقَالَ أَبَوَايَ قُومِي فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا إِيَّاكُمَا

جناب عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ؓا نے ( واقعہ افک کے سلسلے میں بیان کرتے ہوئے ) کہا پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا " عائشہ خوشخبری ہو ! اللہ عزوجل نے تیری براءت نازل فر دی ہے ۔ " اور اسے قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں ، تو میرے ماں باپ نے مجھے کہا: اٹھو اور رسول اللہ ﷺ کے سر کو بوسہ دو ۔ تو میں نے کہا: میں اللہ عزوجل کی حمد کرتی ہوں ، تم دونوں کی نہیں ۔

بچوں کو بوسہ دینا اور میاں ،بیوی کا ایک دوسرے کو بوسہ دینا جائز ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت